چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

نہیں تو یہ مسافت رائیگاں ہے

 

نہ ہی تم میں سکت طوفاں سے لڑ لو

نہ اپنے پاس کوئی بادباں ہے

 

فقط ہم نام دینے سے ہیں قاصر

تعلق تو ہمارے درمیاں ہے

 

میں باسی ہوں کسی بنجر زمیں کا

مقابل میرے پیاسا آسماں ہے

 

نہیں ہوتی اسیرِ وقت اشعرؔ

محبت دائمی ہے ، جاوداں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ