چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

چلو شاید کہ منزل کا نشاں ہے

نہیں تو یہ مسافت رائیگاں ہے

 

نہ ہی تم میں سکت طوفاں سے لڑ لو

نہ اپنے پاس کوئی بادباں ہے

 

فقط ہم نام دینے سے ہیں قاصر

تعلق تو ہمارے درمیاں ہے

 

میں باسی ہوں کسی بنجر زمیں کا

مقابل میرے پیاسا آسماں ہے

 

نہیں ہوتی اسیرِ وقت اشعرؔ

محبت دائمی ہے ، جاوداں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پختہ وہ راہِ محبت میں کہاں ہوتا ہے
عمر ہائے تمام ہوتی ہے
تو سنگِ درِ یار سلامت ہے؟ جبیں بھی؟
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں
رکھ کے خواہش نئے معانی کی
یہ وحشتوں کی جو تاثیر میری آنکھ میں ہے
کچھ حقیقت سے کچھ فسانے سے
نصیب ہو جو کبھی اُس کی آرزو کرنا
دل میں اب کوئی ترے بعد نہیں آئے گا
قریۂ سیم و زر و نام و نسب یاد آیا