چل مدینہ کی جب بھی صدا دی گئی

چل مدینہ کی جب بھی صدا دی گئی

یوں لگا جیسے بگڑی بنا دی گئی

 

نقشِ پائے مبارک کا اعجاز ہے

خاکِ طیبہ میں جو بھی شفا دی گئی

 

میں مدینے گیا تھا بڑے شوق سے

پر مرے شوق کو یہ سزا دی گئی

 

شہرِ آقا میں رہنا تھا کچھ دن مجھے

وائے قسمت کہ مدت گھٹا دی گئی

 

سارے اعمال رد حشر میں ہوگئے

مدحِ خیر الورٰی کی جزا دی گئی

 

نعت گوئی سے پہچان منظرؔ بنی

تیری قسمت کچھ ایسے جگا دی گئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ