چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں

چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں

میں تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں طاق راتوں میں

 

وہ ہنس رہا تھا مگر سُن کے رو پڑا میں تو

بڑی شدید اُداسی تھی اُس کی باتوں میں

 

کچھ اِس لیے بھی ہے میری غزل میں سُرخی سی

میں بھرتا رہتا ہوں اپنا لہو دواتوں میں

 

چلو یہ مانا تری جیت ہے عظیم مگر

ہماری مات بھی ہے یادگار ماتوں میں

 

پُکارتی ہیں مجھے وہ صدائیں بھی فارس

چُھپی ہوئی ہیں جو نادیدہ کائناتوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جیسی ہے بدن میں گل رخ کے ویسی ہی نزاکت باتوں میں
اِدھر اُدھر کہیں کوئی نشاں تو ھوگا ھی
اک آدھ روٹی کے واسطے کیسے کیسے چکر چلا رھا ھُوں
تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
خواب ہوں ، خواب کا گماں ہوں میں
ایسے ہیں یہ الگ الگ ، جیسے جُدا ہیں مَشرقین
کوئی میرے اشک پونچھے ، کوئی بہلائے مجھے
آیا نہ کام جب سرِ بازار فن کوئی
سخت بے چینی کا عالم بھی مکمل چین بھی
جہاں پہ سر تھا کبھی اب ہے سنگِ در کا نشاں

اشتہارات