اردوئے معلیٰ

Search

چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں

میں تجھ کو ڈھونڈتا پھرتا ہوں طاق راتوں میں

 

وہ ہنس رہا تھا مگر سُن کے رو پڑا میں تو

بڑی شدید اُداسی تھی اُس کی باتوں میں

 

کچھ اِس لیے بھی ہے میری غزل میں سُرخی سی

میں بھرتا رہتا ہوں اپنا لہو دواتوں میں

 

چلو یہ مانا تری جیت ہے عظیم مگر

ہماری مات بھی ہے یادگار ماتوں میں

 

پُکارتی ہیں مجھے وہ صدائیں بھی فارس

چُھپی ہوئی ہیں جو نادیدہ کائناتوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ