چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں

 

چمک چمک کے ستارے سلام پڑھتے ہیں

حضورِ شاہ میں اپنا کلام پڑھتے ہیں

 

ہے انتہائے عنایت کہ ذاتِ شہ پہ درود

مجھ ایسے کمترو بے ننگ ونام پڑھتے ہیں

 

یہی تو ہے درِ آقا،اس آستاں پہ سبھی

بڑے ادب سے صلات وسلام پڑھتے ہیں

 

فرشتے بھی رہیں کیوں پیچھے اس عبادت میں

سلام پڑھتے ہیں وہ بھی مدام پڑھتے ہیں

 

زباں پہ جاری ہے ہو جائے خود بخود ہی درود

کسی ورق پہ بھی گر انکا نام پڑھتے ہیں

 

فضائیں گونجنے لگتی ہیں عرش تک محبوب

درود جب بھی نبی کے غلام پڑھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مجھے چاہیے مرے مصطفیٰ ترا پیار، پیار کے شہر کا
معطیِ مطلب تمہارا ہر اِشارہ ہو گیا
نگاہِ لطف کے اُمیدوار ہم بھی ہیں
مدحتِ مصطفیٰ گنگنانے کے بعد
یہ جُود و کرم آپؐ کا ہے، فیض و عطا ہے
ہم درِ مصطفیؐ پہ جائیں گے
مرے گھر کا جو دروازہ کھلا ہے
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
آتی ہے رات دن اک آواز یہ حرم سے
اک نور سے مطلعِ انوار مدینہ