چمک گئی مری قسمت درود پڑھتے ہوئے

چمک گئی مری قسمت درود پڑھتے ہوئے

ٹلی ہر ایک مصیبت درود پڑھتے ہوئے

 

بھٹک رہا تھا کہیں دشت نامرادی میں

ملی خیال کو رفعت درود پڑھتے ہوئے

 

ہنر سے ، قوت بازو سے مل نہیں سکتی

ملے گی دولت شہرت درود پڑھتے ہوئے

 

خموش تھا تو کوئی پوچھتا نہیں تھا مجھے

بڑھا ہے دست رفاقت درود پڑھتے ہوئے

 

ابھی طوالت دشت سراب کا تھا اسیر

ملی رہائی کی نعمت درود پڑھتے ہوئے

 

درود پاک کے اعجاز سے نہیں واقف؟

مرے مکاں کو ملی چھت درود پڑھتے ہوئے

 

نصیب ہوتی ہے عشاق مصطفےٰ کو مجیبؔ

متاعِ گلشن جنت درود پڑھتے ہوئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

گذشتہ رات یادِ شاہ دل میں سو بسو رہی
چاند تاروں سے سرِ افلاک آرائش ہوئی
سجا ہے لالہ زار آج نعت کا
مجھے آپؐ سے جو محبت نہ ہوتی
وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
ملی ہے محبت حضورؐ آپؐ کی
نظر میں کعبہ بسا ہوا ہے مدینہ دل کی کتاب میں ہے
درِ مصطفیٰؐ کا گدا ہوں میں، درِ مصطفیٰؐ پہ صدا کروں
کیا شان شہنشاہ کونین نے پائی ہے
مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

اشتہارات