چوم بیٹھا ہوں تیری آنکھوں کو

چوم بیٹھا ہوں تیری آنکھوں کو

اب ترے خواب دیکھتے ہیں مجھے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ایسے نحیف شخص کی طاقت سے خوف کھا
چار شعروں کی مار ہے وہ شخص
گماں یہی ہے کہ ہم لوگ زندہ رہ جائیں
ابرو آنچل میں دوپٹے کے چھپانا ہے بجا
کچے دھاگے کی طرح ٹوٹ گئی لمحوں میں
اتنا نہ سر اٹھا کہیں خطرے میں نہ پڑ جائے
جگر میں ٹیس لب ہنسنے پہ مجبور
کومل کھرونچیں درد کی لگتی ہیں بدنما
یوں خزاں رت میں نہ جھڑتی ، ابھی زندہ ہوتی
بن گئی اتنی جگہ شہر ادب میں کومل

اشتہارات