چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان

چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان

عہدِ جدید کا ، ارسطو ، سقراط ، شیکسپیئر اور مصطفی زیدی اور شکیب جلالی کا معاصر
چونکا دینے والے لہجے کے شاعر آنِس معین کے ادبی سفر کی داستان
———-
آج آنِس معین اور ان کی شاعری کا ذکر کرتے ہیں۔ آنس معین کی کہانی بڑی درد ناک ہے۔ یہ وہ شاعر ہیں جو انتیس نومبر انیس سو ساٹھ کو لاہور میں پیدا ہوئے اور جنہوں نے ملتان میں پانچ فروری انیس سو چھیاسی کو ایک ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر خود کشی کرلی۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ انیس سو ستتر میں آنِس معین کے والد سید فخرالدین بلے سول لائینز سرگودھا میں مقیم تھے اور وہاں انہوں نے ایک ادبی محفل کا انعقاد کیا۔ اس محفل میں (ڈاکٹر) خورشید رضوی نے اپنی ایک غزل پڑھی تو آنس معین جو اس وقت ایف اے کے طالب علم تھے انہوں نے بے ساختہ داد دی۔ یہ دیکھ کر سجاد نقوی نے یونہی پوچھ لیا کہ آنِس میاں کیا آپ بھی کچھ کہتے ہیں؟ تو آنِس جھوٹ نہ بول سکے اور جب سب نے اصرار کیا تو تو اپنی غزل سنانے کےلیے تیار ہوگئے۔ فخرالدین بلے پر بھی شاید یہ پہلی مرتبہ کھلا کہ آنِس معین بھی غزل کہنا شروع کرچکے ہیں۔ وہ جان بوجھ کر ڈرائنگ روم سے باہر چلے گئے اور جب تک آنِس اپنی غزل سناتے رہے وہ باہر رہے ۔ لیکن جب آنس معین نے غزل ختم کی تو محفل کو چپ سی لگ گئی اس غزل کا مطلع تھا
———-
وہ میرے حال پر رویا بھی مسکریا بھی
عجیب شخص ہے اپنا بھی ہے پرایا بھی
———-
یہ غزل آنس معین کی عمر کے تجربے سے بہت آگے کی تھی۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے کہا کہ آنس یہ غزل ایک کاغذ پر لکھ کر مجھے دے دو۔ آنس معین گھبراظہار گئے کہنے لگے کہ انکل کیا وزن میں کچھ گڑبڑ ہوگئی ہے یا کوئی مضمون صحیح طرح سے ادا نہیں ہوا ؟؟ ۔ انہوں نے کہا نہیں اب یہ غزل اوراق میں چھپے گی۔ یہ سن کر آنس خوش ہوگئے اور اس طرح آنس معین کی شاعری کا آغاز ہوا ۔
———-
یہ بھی پڑھیں : بھارت میں آنِس معین شناسی, رفتار اور معیار ایک جائزہ
———-
کسی نے آنس معین کو عہد جدید کا ارسطو کہا تو کسی نے شیکسپیئر کہا ، کسی نے کیٹس کہا تو کسی نے سقراط کہا ، کسی نے انہیں مصطفی زیدی اور شکیب جلالی کا معاصر قرار دیا۔ جوش ملیح آبادی ، فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی ، انور سدید اور وزیرآغا ۔ ان سب نے آنس معین کی فکر اور فن کو سراہا ہے۔ ان کے لب و لہجے سے بہت سے بڑے بڑے شعرا ٕ چونکے ہیں۔ ان کے لب و لہجے میں جو ندرت ہے وہ اتنے کم عمر شاعروں کی شاعری میں بہت کم نظر آتی ہے۔
آنس معین کی وفات کے بعد سولہ مئی انیس سو چھیاسی کو آنس معین کے والد فخرالدین بلے نے ڈاکٹر وزیر آغا کے نام ایک خط لکھا ۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ جس روز یہ سانحہ ہوا وہ ملتان سے اسلام آباد گئے ہوئے تھے۔ آنس کی والدہ بھی کراچی میں تھیں گھر میں ان کے دو بھائی عارف اور ظفر تھے اور ایک بہن تھی ۔ عارف اور ظفر کا کہنا ہے کہ اس سانحے سے ایک روز قبل آنس معین ان کے ساتھ رات گئے تک باتیں کرتے رہے اور ہنستے رہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ آنس کا اگلے روز کیا ارادہ ہے ؟ اور وہ کیا کرنے جارہے ہیں ۔ مرنے کے بعد ان کی جیب سے ایک برآمد ہوا جس سے یہ پتہ چلا کہ انہوں نے کتابِ زیست کا آخری ورق پڑھنے کی عجلت میں جان دیدی ۔ فخرالدین بلے نے اپنے خط میں یہ بھی تحریر کیا کہ المیہ یہ ہے کہ ہم ان کی شاعری کو ان کی تخلیقات کو اور ان کی باتوں کو صرف شاعری ہی سمجھتے رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر وزیر آغا وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے آنس معین کی سوچ کو غیرمعمولی اور ان کے اشعار کو چونکا دینے والا کہا تھا بلکہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے ان کے بعض اشعار سے خوف آتا ہے ۔ آئیے انس معین کی ایک غزل سنئیے۔ کہتے ہیں
ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور
———-
یہ بھی پڑھیں : معروف شاعر ” آنس معین ” کا یوم وفات
———-
ہو جائے گی جب تم سے شناسائی ذرا اور
بڑھ جائے گی شاید مری تنہائی ذرا اور
کیوں کھل گئے لوگوں پہ مری ذات کے اسرار
اے کاش کہ ہوتی مری گہرائی ذرا اور
پھر ہاتھ پہ زخموں کے نشاں گن نہ سکو گے
یہ الجھی ہوئی ڈور جو سلجھائی ذرا اور
تردید تو کر سکتا تھا پھیلے گی مگر بات
اس طور بھی ہوگی تری رسوائی ذرا اور
کیوں ترک تعلق بھی کیا لوٹ بھی آیا؟
اچھا تھا کہ ہوتا جو وہ ہرجائی ذرا اور
ہے دیپ تری یاد کا روشن ابھی دل میں
یہ خوف ہے لیکن جو ہوا آئی ذرا اور
لڑنا وہیں دشمن سے جہاں گھیر سکو تم
جیتو گے تبھی ہوگی جو پسپائی ذرا اور
بڑھ جائیں گے کچھ اور لہو بیچنے والے
ہو جائے اگر شہر میں مہنگائی ذرا اور
اک ڈوبتی دھڑکن کی صدا لوگ نہ سن لیں
کچھ دیر کو بجنے دو یہ شہنائی ذرا اور
———-
ویڈیو دیکھنے کے لیے لنک
———-

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ