اردوئے معلیٰ

Search

چوٹ اس کے عشق کی ہے جو دل پر لگی ہوئی

تا مرگ یہ رہے گی برابر لگی ہوئی

 

شکوے تو ہیں ہزاروں مگر اُن کے روبرو

مہر سکوت ہے مرے لب پر لگی ہوئی

 

سوزِ الم نے دل کو جگر کو جلا دیا

اے ہم نفس یہ آگ ہے گھر گھر لگی ہوئی

 

اے فوقؔ دُختِ رند کو کہوں کیا بقولِ ذوقؔ

چُھٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ