اردوئے معلیٰ

چَھن رہی ہے بند پلکوں سے بھی غم کی روشنی

ڈھانپئے کیسے شکستِ خواب کی عریانیت

 

کیا بھلا ممکن جوازِ ترکِ راہِ آرزو

فہم سے بالا رہی ہے جستجو کی ماہیت

 

دست بستہ سرنگوں ہے بے نیازی حسن کی

کس قدر بارعب ہوگی عشق کی آفاقیت

 

آنکھ میں جو عکس ہے وہ دیکھ سکتے ہیں سبھی

حرفِ سادہ لوح میں ہے کانچ سی شفافیت

 

آخرِ امید کے لہجے میں اب کی بار تو

صاف گوئی سے کہیں آگے کی ہے سفاکیت

 

مار ڈالے گی دلِ کم بخت کو یہ بے دلی

کاٹنے کو دوڑتی ہے وقت کی یکسانیت

 

بے خبر ہے آتشَ خورشید کی مردانگی

زرد پڑتی جا رہی ہے ارض کی نسوانیت

 

انحطاطِ درجہِ اظہار ، کہ تن کے عوض

طے ہوئی ہے کیمیائے گفتگو کی مالیت

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات