اردوئے معلیٰ

چھوڑ کر رونقِ بازار ‘ کوئی نعت کہو

چھوڑ کر رونقِ بازار ، کوئی نعت کہو

ٹھیک ہو جاؤ گے بیمار ! کوئی نعت کہو

 

اس طرح گھر کی اُداسی نہيں جانے والی

کہہ رہے تھے در و دیوار ، کوئی نعت کہو

 

مال و دولت سے یہ اعزاز کہاں ملتا ہے

اے شفاعت کے طلب گار ! کوئی نعت کہو

 

چاہتے ہو کہ اگر حاضری مقبول بھی ہو

مختصر اور لگاتار ، کوئی نعت کہو

 

ورنہ آگے کا سفر اور بھی مشکل ہو گا

اے مرے قافلہ سالار ! کوئی نعت کہو

 

عمر بھر بیٹھ کے رونے سے کہیں بہتر ہے

مُسکرا کر بھی عزادار ، کوئی نعت کہو

 

نعت توفیق سے ہوتی ہے ریاضت سے نہيں

تم مری مان کے اِک بار ، کوئی نعت کہو

 

ٹوٹ جائے نہ کہیں سانس کی ڈوری، عامیؔ

وقت سے پہلے مرے یار ! کوئی نعت کہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ