اردوئے معلیٰ

Search

چھپ گیا سورج یہ کہہ کر شام سے

لے سبق دنیا مرے انجام سے

 

روح کو ہم نے ہزاروں دکھ دئے

نفس کو رکھا بڑے آرام سے

 

ایک بازیچہ سمجھ کر اہل دل

کھیلتے ہیں گردش ایام سے

 

سوچئے ہر زاویے سے دہر میں

کیسے گزرے زندگی آرام سے

 

کر دیا ساقی نے ساغر چور چور

چھین کر اک رند تشنہ کام سے

 

کون در پر رہ گیا دم توڑ کر

دیکھتے تو تم اتر کر بام سے

 

ہو گیا برہم نظام میکدہ

ایک آواز شکست جام سے

 

آخرش فرط مصائب پر جلیؔ

روتے روتے سو گیا آرام سے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ