چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

شعر پھر نعت کے مضمون سے روشن ہو گا

 

آج دیں پر جو فدا ہونے کا احساس رہا

ہر عمل مشعلِ مامون سے روشن ہو گا

 

قریۂ دیں جو خرد مندوں نے تاریک کیا

لازماً اب کسی مجنون سے روشن ہو گا

 

اتباعِ نبوی ﷺ شرط ہے لیکن ہے گماں

شہرِ دل کاوشِ ملعون سے روشن ہو گا!

 

بے عمل قوم کا چہرہ جو ہوا مسخ یہاں

سوچیے ! غازۂ بیرون سے روشن ہو گا؟

 

عدل کا دیپ بجھایا ہے جو ملت نے عزیزؔ

وہ فقط دین کے قانون سے روشن ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

بنامِ مصطفےٰ ہو امن یا رب پھر کراچی میں
اے شہ انبیاء سرورِ سروراں تجھ سا کوئی کہاں تجھ سا کوئی کہاں
نیچی نظریں کئے دربار میں ہم آتے ہیں
ان کی ذاتِ اقدس ہی، رحمتِ مجسم ہے
دنیا کے ٹھکرائے لوگ
نعت سے عشقِ پیہم کی خوشبو آئے
نسیمِ ذِکرِ نبی جب لبوں کو چھو کے گئی
اسے زما نہ بڑے ہی ادب سے ملتا ہے
کبھی کوہِ صفا پر مسکرایا
من موہن کی یاد میں ہر پل ساون بن کر برسے نیناں