اردوئے معلیٰ

Search

چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

شعر پھر نعت کے مضمون سے روشن ہو گا

 

آج دیں پر جو فدا ہونے کا احساس رہا

ہر عمل مشعلِ مامون سے روشن ہو گا

 

قریۂ دیں جو خرد مندوں نے تاریک کیا

لازماً اب کسی مجنون سے روشن ہو گا

 

اتباعِ نبوی شرط ہے لیکن ہے گماں

شہرِ دل کاوشِ ملعون سے روشن ہو گا!

 

بے عمل قوم کا چہرہ جو ہوا مسخ یہاں

سوچیے ! غازۂ بیرون سے روشن ہو گا؟

 

عدل کا دیپ بجھایا ہے جو ملت نے عزیزؔ

وہ فقط دین کے قانون سے روشن ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ