چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

چہرۂ فکر مرے خون سے روشن ہو گا

شعر پھر نعت کے مضمون سے روشن ہو گا

 

آج دیں پر جو فدا ہونے کا احساس رہا

ہر عمل مشعلِ مامون سے روشن ہو گا

 

قریۂ دیں جو خرد مندوں نے تاریک کیا

لازماً اب کسی مجنون سے روشن ہو گا

 

اتباعِ نبوی شرط ہے لیکن ہے گماں

شہرِ دل کاوشِ ملعون سے روشن ہو گا!

 

بے عمل قوم کا چہرہ جو ہوا مسخ یہاں

سوچیے ! غازۂ بیرون سے روشن ہو گا؟

 

عدل کا دیپ بجھایا ہے جو ملت نے عزیزؔ

وہ فقط دین کے قانون سے روشن ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ