اردوئے معلیٰ

چہ پروا دارم از بے مہریِ گردوں کہ ہر صُبحے

ز داغِ عشق بر دل آفتابے ساکنے دارم

 

میں آسمان¹ کی بے رحمی اور بے مروتی

کی کیا پروا کروں کہ ہر صبح میرے دل پر

داغِ عشق کی وجہ سے ایک غیر

متحرک، ساکن آفتاب چمکتا ہے

 

آسمان¹   کی بے مروتی سے اُس کا متحرک آفتاب غروب ہو جاتا ہے لیکن میرے دل پر عشق کے داغ ایسے آفتاب ہیں جو غروب نہیں ہوتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات