اردوئے معلیٰ

ڈوب گئیں سب یادیں اُس کی رنگ گُھلے اور شام ہوئی

ڈوب گئیں سب یادیں اُس کی رنگ گُھلے اور شام ہوئی

دل نے جو بھی بزم سجائی ، بکھری اور ناکام ہوئی

 

پل بھر آگے جھوم رہی تھی کرنوں کی پھلواری سی

اب یہ خاموشی ، تنہائی ، ہائے رے کیسی شام ہوئی

 

گرم و گداز وہ سانسیں اُس کی ، جسم مہکتا انگارہ

دھیمی دھیمی آنچ لبوں کی حاصلِ صبح و شام ہوئی

 

آنچل کی اک لہر ذرا سی حدِ اُفق تک جا پہنچی

اُبھری اور سحر بن بیٹھی ، ڈوب گئی تو شام ہوئی

 

کتنی طویل اور کیسی کٹھن تھی رات حیات کی کیسے کٹی

اُن آنکھوں میں بیت گئی کچھ اور کچھ صرفِ جام ہوئی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ