ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا

 

ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا

شام ہونے سے پہلے سفر کٹ گیا

 

پیاس دھرتی کی بجھنے سے کچھ پیشتر

دھوپ کے وار سے ابرِ تر کٹ گیا

 

رسمِ شبیرؓ پھر سے ادا ہو گئی

سچ کی پاداش میں ایک سر کٹ گیا

 

خونچکاں شہر تیرے فسادات میں

پھر کسی ماں کا لختِ جگر کٹ گیا

 

چھڑ گئی بحث سی نیند اور آنکھ میں

شب کا پچھلا پہر جاگ کر کٹ گیا

 

یہ کہا پیڑ نے پیڑ سے مرتضیٰ

جو ہوا بے ثمر وہ شجر کٹ گیا

 

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سمجھو کہ ہجرت کے طلسمات میں گم ہیں
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
وہ بھی اب یاد کریں کس کو منانے نکلے؟
اس قدر تیر کمیں گاہِ جنوں سے نکلے
موند کر آنکھ اُن آنکھوں کی عبادت کی جائے
زخم ایسا نشاں میں آئے گا
کھو چکا قبل ازیں بول کے گویائی بھی
داغِ جنوں دھلے تو بہت صاف رہ گئے