ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا

 

ڈور سے اُڑتی چڑیا کا پَر کٹ گیا

شام ہونے سے پہلے سفر کٹ گیا

 

پیاس دھرتی کی بجھنے سے کچھ پیشتر

دھوپ کے وار سے ابرِ تر کٹ گیا

 

رسمِ شبیرؓ پھر سے ادا ہو گئی

سچ کی پاداش میں ایک سر کٹ گیا

 

خونچکاں شہر تیرے فسادات میں

پھر کسی ماں کا لختِ جگر کٹ گیا

 

چھڑ گئی بحث سی نیند اور آنکھ میں

شب کا پچھلا پہر جاگ کر کٹ گیا

 

یہ کہا پیڑ نے پیڑ سے مرتضیٰ

جو ہوا بے ثمر وہ شجر کٹ گیا

 

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ