اردوئے معلیٰ

سُن اے اَن دیکھی سانولی! تری آس مجھے ترسائے

مری رُوح کے سُونے صحن میں ترا سایہ سا لہرائے

 

ترے ہونٹ سُریلی بانسری ، ترے نیناں مست غزال

تری سانسوں کی مہکار سے مرا حال ہوا بے حال

 

کچھ دُھوپ ہے اور کچھ چھاوٗں ہے ترا گھٹتا بڑھتا پیار

انکار میں کچھ اقرار ہے ، اقرار میں کچھ انکار

 

مجھے بستی بستی لے پھرا تری سُندرتا کا عشق

مکّہ ، یثرب ، اور قونیہ ، دِلی ، مُلتان ، دمشق

 

میں سُدھ بُدھ کھو کر پی گیا من مستی والا جام

اب دُکھ میرا سُکھ چین ہے اور درد مرا آرام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات