ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ

ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ

اب جنونِ عشق کا مرہم تلاشہ جائے گا

 

آئیگا وہ وقت جس کی آس تک موہوم ہے

جائے گا یہ درد جو ہے بے تحاشہ ، جائے گا

 

پھر ترے کوچے کی رونق ہیں فدایانِ جنوں

جس طرف جائے تماشہ گر، تماشہ جائے گا

 

کب تلک مالِ غنیمت میں جواہر آئیں گے

معرکہ گاہوں سے گھر اس بار لاشہ جائے گا

 

کل تلک جو ہاتھ اور آنکھیں سلامت رہ گئیں

سنگِ وحشت سے کوئی پیکرتراشہ جائے گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ذرا ہیں لوگ مُختلف، ذرا سی ہے سِپاہ اور
معلوم ہے جناب کا مطلب کچھ اور ہے
جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو
قدم قدم تے پِیڑ وے عشقا
کوہ و دامان و زمین و آسماں کچھ بھی نہیں
کوئی مثال ہو تو کہیں بھی کہ اس طرح
میرا اظہارِ محبت اُسے ناکافی ہے
اس کی تجلیات کا مظہر بنا ہوں میں
غبارِ خوابِ یقیں روز و شب پہ طاری ہے
اُڑ گئے رنگ مگر خواب کا خاکہ اب تک

اشتہارات