اردوئے معلیٰ

کائناتِ رنگ و بُو سے ہجر کا مشتاق ہوں

کائناتِ رنگ و بُو سے ہجر کا مشتاق ہوں

میں جنوں کی منطقوں کا عشق پر اطلاق ہوں

 

میں رخِ پُر نور ہائے حسن کا غازہ بھی ہوں

دوسری جانب ، نگاہِ حیرتِ عشاق ہوں

 

عین ممکن ہے کہ ان پر لب کشائی بھی کروں

میں ابھی جن الجھنوں پہ محوِ استغراق ہوں

 

موجزن فکرِ رساء میں ہے نمُو کا معجزہ

میں بھلے دشتِ زیاں میں ریت کے مصداق ہوں

 

ہیں مری تحریر، چاہے حرف ہوں تمہید کے

یا تمہاری داستاں کے آخری اوراق ہوں

 

رقص شامل فطرتِ رقاصہِ وحشت میں ہے

لوگ چاہے ناشناسی کے ہنر میں طاق ہوں

 

آ مری بانہوں میں ، مجھ کو بھولنے کے واسطے

صرف میں ہوں جو کہ اپنے زہر کا تریاق ہوں

 

میں زمیں پر بھی نیابت میں رہا ناکام ہی

جائیدادِ خلد سے تو عمر گزری عاق ہوں

 

فیصلے کے وقت ناصر حافظے سے مِٹ گئے

وہ بقاء کے درس ہوں یا ہست کے اسباق ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ