اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

کاجل

وقت نے جتنی مہلت دی تھی
اُس سے سوا محسوس کیا ہے
اپنی آنکھوں سے گالوں تک
اُس کا لمس سجا رکھا ہے
ایک گھڑی ایسی بھی گزری
جس نے درد اُجال دیا ہے
ہر اِک غم کو ٹال دیا ہے
میرے سوہنے ڈھول سائیں نے
کیسا اُسے کمال دیا ہے
اُس نے اپنے ہاتھ سے میری
آنکھ میں کاجل ڈال دیا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

فیکون
فروغ فرخ زاد کے نام
مسلم سربراہ کانفرنس
عشق
لوکاں دا کیہ دوش وے بیبا
رُک ہی جاتی کہیں ہَوا، لیکن!
یہی دعا ہے رہیں سبز ہی ترے موسم
سانولی
جانے کیوں؟
معذرت