اردوئے معلیٰ

Search

کارِ دشوار کر رہا ہوں میں

عشق بیکار کر رہا ہوں میں

 

تیری تصویر مجھ سے لپٹی ہے

خود کو دیوار کر رہا ہوں میں

 

اس کہانی میں تجھ کو مرنا تھا

تیرا کردار کر رہا ہوں میں

 

اب نہ لانا مرا حوالہ کوئی

اپنا انکار کر رہا ہوں میں

 

اک ملاقات اس نے مانگی ہے

خود کو تیار کر رہا ہوں میں

 

کردہ ، ناکردہ سب گناہوں کا

آج اقرار کر رہا ہوں میں

 

دار کو سر پہ رکھ لیا میں نے

خود کو سر دار کر رہا ہوں میں

 

خود کو پہلے رہائی دی تھی زبیرؔ

اب گرفتار کر رہا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ