کارِ دشوار

منزلیں گم ہوئیں
راستے کھو گئے
تیری سیرت سے بھٹکے
ہیں
ایسے شہا
خود کو پہچاننا
کارِ دشوار ہے
زندگی
ریت کی جیسے دیوار ہے
تیری رحمت ہمیں
پھرسے درکار ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جسے عشق شاہ رسولاں نہیں ہے
کر رہے ہیں تیری ثناء خوانی
کتنا سادہ بھی ہے سچا بھی ہے معیار ان کا
اتری ہے َرقْص کرتے ہوئے شبنمی ہوا
یہ آرزو ہے جب بھی کُھلے اور جہاں کُھلے
اُس ایک ذات کی توقیر کیا بیاں کیجے
رحمت عالم محمد مصطفی
مایوسیوں کا میری سہارا تمہیں تو ہو
آرام گہِ سید سادات یہ گنبد
محفل میں تھا اکیلا , تھے جذبات منفرد

اشتہارات