کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں

کارِ عبث رہی ہیں جنوں کی وکالتیں

کب سن رہی تھیں محض حقیقت عدالتیں

 

پاؤں کہ چادروں سے ہمیشہ نکل گئے

پوشاک کی بدن سے رہیں کم طوالتیں

 

تم ہو رہے ہم سے مخاطب تو کم ہے کیا

اب کیا بیان کیجے شکستوں کی حالتیں

 

اب ہیں نصیبِ زعمِ محبت ، ہزیمتیں

اب خواہشوں کا آکر و حاصل خجالتیں

 

پلتے رہے ہیں خؤن پہ خونخوار سانحے

واجب حروفِ حق کی ہوئی تھیں کفالتیں

 

ناصر ، سبک مزاج کی ساری نفاستیں

آخر نگل گئی ہیں جہاں کی جہالتیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ