اردوئے معلیٰ

Search

کاش ایسا بھی کوئی لمحہ میسر آئے

تیرے دربار سے ہو کر ترا نوکر آئے

 

باوضو ہوکے میں اس وقت تری نعت پڑھوں

"​جب تصور میں ترے شہر کا منظر آئے”

 

مل گئی مفلسوں لاچاروں یتیموں کو اماں

جس گھڑی دہر میں کونین کے سرور آئے

 

گر گئے نجد کے ایوان کے علمی جھومر

لے کے جب کلک رضا ہاتھ میں اختر آئے

 

جس کو بھی چاہیے جنت کی ہواؤں کی مہک

وہ مدینہ کے گلی کوچوں سے ہوکر آئے

 

اے نظامی تمہیں آقا نے بلایا ہے چلو

کاش یہ لے کے خبر کوئی کبوتر آئے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ