اردوئے معلیٰ

Search

کاش ایسا ہو! مسلماں یاس کے پیکر نہ ہوں

ہر نظر کے سامنے وحشت کے یہ منظر نہ ہوں

اب جہاں میں یوں پریشاں کاش ہم در در نہ ہوں

یوں پھریرے جرأتوں کے سر نگوں گھر گھر نہ ہوں

ایسی صبحیں دیکھنے کو چاہتا ہے دل حضور !

آپ چاہیں تو نہیں ہے دور یہ منزل حضور !

درد کی سوغات گھر گھر بٹ رہی ہے روز و شب

زیست بداعمالیوں میں کٹ رہی ہے روز و شب

جادۂ حق سے یہ اُمت ہٹ رہی ہے روز و شب

ہر سبق غیروں کا، ملت رَٹ رہی ہے روز و شب

غیرتِ مسلم کی میّت گور سے محروم ہے

ہر طرف آزر ہیں بس اِک بُت شکن معدوم ہے

 

حکمراں ایسے سریر آرا ہیں جن کو غم نہیں

دیں کے کھو جانے کا شہروں میں کہیں ماتم نہیں

سر سے اونچا اب کہیں بھی دین کا پرچم نہیں

تفرقے تو ہیں، اُخوَّت نام کو، باہم نہیں

جانتے ہیں سب یہ خمیازہ ہے بداعمال کا

عیش و عشرت کا ثمر ہے اور حُبِّ مال کا

پھر بھی مسلم کو کہاں اِدبار کا احساس ہے

اس کو مدت سے یہی ذلت، مسلسل راس ہے

آج ہر صورت نمایاں نقشِ حرفِ یاس ہے

غیر سے کچھ بھیک پا لینے کی سب کو آس ہے

بے حسی کا دور ہے، ناکامیوں کا عہد ہے

خاص بندے رَبّ کے کم ہیں، عامیوں کا عہد ہے

کون صاحِب دل ہے جو اس درد سے بے جاں نہیں

کون سی بستی ہے جس میں صاحبِ ایماں نہیں

اکثریت پھر بھی اس اِدبار سے نالاں نہیں

اب نکلنا اس بھنور سے شاہِ دیں ، آساں نہیں

ہاںمگر اِک آپ ! کی چشمِ عنایت کے طفیل

ہو گی شنوائی دعاؤں کی، شفاعت کے طفیل

 

کوئی بھی اب عیش کی دنیا سے روگرداں نہیں

فقر سے ڈرتے ہیں سب تقدیر پر ایماں نہیں

قاریوں کی بھیڑ میں، اِک عاملِ قرآں نہیں

کون ایسا ہے کہ جس پر غیر کا احساں نہیں

حرفِ حق کس لب پہ آئے عیش کے ماحول میں

آ سکے پھر کیسے ہم رنگی عمل اور قول میں

یا نبی ! ، صدیق اکبرؓ کی صداقت کے طفیل

حضرتِ فاروقِ اعظمؓ کی عدالت کے طفیل

صاحبِ نورَین عثماںؓ کی شہادت کے طفیل

فاتحِ خیبر علیؓ کے عزم و ہمت کے طفیل

کیجیے رب سے سفارش، دور یہ اِدبار ہو

آپ ! کی نوریں دعاؤں سے یہ بیڑا پار ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ