اردوئے معلیٰ

کاش سرکار کے حجرے کا میں ذرہ ہوتا

ان کے نعلین کا جاں پر میری قبضہ ہوتا

 

حشر تک سر نہ اٹھاتا میں درِ اقدس سے

میری قسمت میں ازل سے یہی لکھا ہوتا

 

ان کے جلوؤں میں مگن رات بسر ہو جاتی

ان کو تکتے ہوئے ہر ایک سویرا ہوتا

 

ان کی راہوں میں نگاہوں کو بچھائے رکھتا

ان کی آہٹ پہ دل و جان سے شیدا ہوتا

 

کبھی پیشانی پہ حسنین کے پاؤں پڑتے

اور علی کا کبھی سر پر میرے تلوا ہوتا

 

ہر کوئی چومتا آنکھوں سے لگاتا مجھ کو

ان کی نسبت سے ابد تک میرا چرچا ہوتا

 

عمر، عثمان، ابوبکر ، حذیفہ، حمزہ

سب صحابہ کو میری آنکھ نے دیکھا ہوتا

 

بیٹھ کر دل پہ میرے نعت سناتے حسان

ناز کا تاج میرے سر پہ سنہرا ہوتا

 

رب کا احساں ہے کہ آقا کا سخنور ہوں آسؔ

یہ بھی سرمایہ نہ ہوتا تو میرا کیا ہوتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات