اردوئے معلیٰ

 

کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

رحمۃً للعالمیں تیرا وجود قادرِ مطلق کی وجہِ ناز بھی

 

روزِ روشن کی طرح تیری حیات تو جہاں کا سب سے گہرا راز بھی

ہر دلِ بیمار کا تو چارہ گر آدمی کی روح کا نباض بھی

 

تیرے نغموں نے کیا انسان کو قدسیانِ عرش کا دمساز بھی

احسنِ تقویم کی برہان تو آدمیت کے لیے اعزاز بھی

 

ایک اُمّی رہنما کونین کا اور قرآں سرمدی اعجاز بھی

حق نے جن جن کو کوئی بخشا کمال ان میں شامل ، ان سے تُو مُمتاز بھی

 

نعت میں شرکت کی لے کرآرزو دست بستہ ہیں کھڑے الفاظ بھی

مستقل اپنا بنا عارفؔ کو تو نعت گو اور زمزمہ پرداز بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات