کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

 

کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی

رحمۃً للعالمیں تیرا وجود قادرِ مطلق کی وجہِ ناز بھی

 

روزِ روشن کی طرح تیری حیات تو جہاں کا سب سے گہرا راز بھی

ہر دلِ بیمار کا تو چارہ گر آدمی کی روح کا نباض بھی

 

تیرے نغموں نے کیا انسان کو قدسیانِ عرش کا دمساز بھی

احسنِ تقویم کی برہان تو آدمیت کے لیے اعزاز بھی

 

ایک اُمّی رہنما کونین کا اور قرآں سرمدی اعجاز بھی

حق نے جن جن کو کوئی بخشا کمال ان میں شامل ، ان سے تُو مُمتاز بھی

 

نعت میں شرکت کی لے کرآرزو دست بستہ ہیں کھڑے الفاظ بھی

مستقل اپنا بنا عارفؔ کو تو نعت گو اور زمزمہ پرداز بھی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیرے قدموں میں آنا میرا کام تھا
ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں
پھر کرم ہوگیا میں مدینے چلا
معطّر شُد دل از بوئے محمّد
دلدار بڑے آئے محبوب بڑے دیکھے
خالق کے شاہکار ہیں خلقت کے تاجدار
خوشبو اُتر رہی ہے مرے جسم وجان میں
بسائیں چل کے نگاہوں میں اُس دیار کی ریت
دونوں جہاں میں حسن سراپا ہیں آپ ہی
ذات عالی صفات کے صدقے

اشتہارات