اردوئے معلیٰ

کام آئے گی مرے بزم عقیدت ان کی

کام آئے گی مرے بزم عقیدت ان کی

بخشوائے گی سر حشر محبت ان کی

 

شاہِ کونین ہیں وہ ، تاج ہے رحمت ان کا

کیوں نہ ہو سارے زمانے کو ضرورت ان کی

 

رب کونین ہے خود مدح میں ان کی مصروف

یہ وقار ان کا ، یہ عظمت ، یہ وجاہت ان کی

 

عالم حسن ہے رخسارِ مقدس پہ نثار

حیرتی آئِنہ ہے دیکھ کے صورت ان کی

 

اس لیے رب دو عالم نے بنائیں راتیں

عالم خواب میں ہو جائے زیارت ان کی

 

اس لیے تیر ستم کو نہیں ملتا ہے ہدف

اپنے دامن میں چھپا لے مجھے رحمت ان کی

 

طائر فکر مدینے میں پہنچ کر اکثر

دیکھتا ہے کبھی دیوار کبھی چھت ان کی

 

جب سے آقا نے بنایا ہے مجھے اپنا غلام

میرے قدموں میں بچھی جاتی ہے جنت ان کی

 

غیر ممکن ہے کوئی ذرہ بھی تشنہ رہ جائے

اتنی محدود نہیں موج سخاوت ان کی

 

ہو گئے جمع سبھی چاہنے والے ان کے

جب سرِ حشر سجی بزم شفاعت ان کی

 

جب لیا نام کسی نے مرے آقا کا مجیبؔ

خود بہ خود کرنے لگے لب مرے مدحت ان کی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ