اردوئے معلیٰ

Search

کام کوئی تو جنوں زاد کے سر رہنے دے

اب کے دیوار اٹھاتا ہے تو در رہنے دے

 

ربط ہر چند فقط ایک تاثر ہی سہی

اور کچھ دیر مجھے زیرِ اثر رہنے دے

 

بے سبب دید کے ہیجان میں مر جائے گا

جب نہیں تابِ نظارہ تو نظر رہنے دے

 

تو نے پہلے بھی تو رہنے ہی دیا تھا مجھ کو

اب بھی مت سوچ مجھے بارِ دگر رہنے دے

 

میں بھلا حسرتِ پرواز سے بڑھ کر کیا ہوں

کم سے کم میرے تخیل کے ہی پر رہنے دے

 

تو چڑھے دن کی تمازت ہے اسے چھو بھی نہیں

اس شفق پوش کے گالوں پہ سحر رہنے دے

 

اب کے رکتا ہوں تو رک جائے گی دل کی دھڑکن

قریہِ خواب مجھے محوِ سفر رہنے دے

 

تو کہ شاداب شگوفے سا بھلا لگتا ہے

شعر تھا ایک سنانے کو مگر رہنے دے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ