کام کو آدھا کر لیتے ہیں

کام کو آدھا کر لیتے ہیں

عشق زیادہ کر لیتے ہیں

 

درد سے جب بھر جائے دل تو

اور کشادہ کر لیتے ہیں

 

پیار تو وہ بھی کرتے ہیں پر

ہم کچھ زیادہ کر لیتے ہیں

 

میں اور دشمن فرض کا اپنے

روز اعادہ کر لیتے ہیں

 

ہجر کی لمبی راتوں کو ہم

کاٹ کے آدھا کر لیتے ہیں

 

شاہ گرانا ہے سو آگے

ایک پیادہ کر لیتے ہیں

 

غم سے شادی کر کے سوچا

ایک سے زیادہ کر لیتے ہیں

 

عشق سے توبہ کرنے والے

پھر اک آدھا کر لیتے ہیں

 

ہم نے دور تو ہونا ہی تھا

آج ارادہ کر لیتے ہیں

 

تم تنہا کیا عشق کرو گے؟

آدھا آدھا کر لیتے ہیں

 

اب کوئی وعدہ نہیں کرنا

آج یہ وعدہ کر لیتے ہیں

 

تم کو عشق ہے ، مجھ کو جلدی

جو ہے سادہ کر لیتے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے
لرزتے جسم کا بھونچال دیکھنے کے لیے
تِری ہی شکل کے بُت ہیں کئی تراشے ہوئے
تڑپتی، رینگتی، لوگوں کے ہاتھوں مر مر کر
ایک منظر پسِ منظر بھی دکھایا جائے
جس شہر میں سحر ہو وہاں شب بسر نہ ہو
قدم قدم تے پِیڑ وے عشقا
کوہ و دامان و زمین و آسماں کچھ بھی نہیں
کوئی مثال ہو تو کہیں بھی کہ اس طرح
میرا اظہارِ محبت اُسے ناکافی ہے