کبھی کوہ و دمن میں کھوجتا ہے

کبھی کوہ و دمن میں کھوجتا ہے

کبھی دیر و حرم میں ڈھونڈتا ہے

خدا بستا ہے انسانوں کے دل میں

نہ کیوں خانۂ دل میں جھانکتا ہے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنُ سنُ کے مجھ سے وصف ترے اختیار کا
برگِ گل، شاخ ہجر کا کر دے
جو سب سے پوشیدہ رہ کے سب کو لُبھا رہا ہے
میری ہر دھڑکن عبادت ہے تری، میرے خدا!
خدا کے نام سے ہی ابتدا ہے
خدا کی حمد کے اشعار بے خود گنگناتا ہوں
میانِ قعرِ دریا جس نے اللہ کو پُکارا ہے
اگر ہے جستجو رب کی رضا کی
خدا ہی دل رُبا و دل نشیں ہے
رحیم و مہرباں میرا خدا ہے

اشتہارات