کب بُلاؤ گے مجھے پاس مِرے آقا جی

کب بُلاؤ گے مجھے پاس مِرے آقا جی

بڑھتی جاتی ہے مِری پیاس مِرے آقا جی

 

جس سے بن جائیں مِری بگڑی ہوئی سب باتیں

ہو کوئی ایسا کرم خاص مِرے آقا جی

 

سہہ نہیں پائے گی سختی یہ زمانے بھر کی

ہے طبیعت مِری حساس مِرے آقا جی

 

آئے گی بادِ صبا گُنبدِ خضریٰ چُھو کر

گُلشنِ دِل کو ہے اِک آس مِرے آقا جی

 

جام اِک اپنی محبت کا عطا کر دیجے

حوضِ کوثر پہ مِری پیاس مِرے آقا جی

 

آپ راضی ہیں تو راضی ہے رضاؔ پر مولا

ہِجر آ جائے مجھے راس مِرے آقا جی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سُتوں کی دیکھ کر حالت صحابہ سر بسر روئے
بہاریں ہی بہاریں ہیں چَمن میں
درود پڑھتی ہیں عندلیبیں سلام بھیجیں یہ پھول سارے
بندگی کا سلسلہ اور آگہی کا سلسلہ
ورفعنا لک ذکرک کی صداقت ہے عیاں
یانبی چشمِ کرم فرمائیے
تصور میں بھی ان سے دردِ دل کا ماجرا کہنا
کاش وہ چہرہ میری آنکھ نے دیکھا ہوتا
رِیاضِ جناں ہے نثارِ مدینہ​
عیسوی سال کا جب پانچ سو ستّر اُترا