اردوئے معلیٰ

کب بُلاؤ گے مجھے پاس مِرے آقا جی

بڑھتی جاتی ہے مِری پیاس مِرے آقا جی

 

جس سے بن جائیں مِری بگڑی ہوئی سب باتیں

ہو کوئی ایسا کرم خاص مِرے آقا جی

 

سہہ نہیں پائے گی سختی یہ زمانے بھر کی

ہے طبیعت مِری حساس مِرے آقا جی

 

آئے گی بادِ صبا گُنبدِ خضریٰ چُھو کر

گُلشنِ دِل کو ہے اِک آس مِرے آقا جی

 

جام اِک اپنی محبت کا عطا کر دیجے

حوضِ کوثر پہ مِری پیاس مِرے آقا جی

 

آپ راضی ہیں تو راضی ہے رضاؔ پر مولا

ہِجر آ جائے مجھے راس مِرے آقا جی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات