اردوئے معلیٰ

Search

کب تلک بھیڑ میں اوروں کے سہارے چلئے

لوگ رستے میں ہوں اتنے تو کنارے چلئے

 

اب تو مجبور یا مختار گزارے چلئے

قرض جتنے ہیں محبت کے اتارے چلئے

 

جس نے بخشی ہے مسافت وہی منزل دے گا

ہو کے راضی برضا اُس کے اشارے چلئے

 

اُن کے لائق نہیں کچھ اشکِ محبت کے سوا

بھر کے دامن میں یہی چاند ستارے چلئے

 

معتبر ہوتی نہیں راہ میں گزری ہوئی رات

آ گئی شامِ سفر اپنے دُوارے چلئے

 

ہم بھی قائل نہیں رستے کو پلٹ کر دیکھیں

ماضی ڈستا ہے تو پھر ساتھ ہمارے چلئے

 

دشتِ ہجراں بھی گزر جائے گا عزّت سے ظہیرؔ

نامِ نامی اُسی رہبر کا پکارے چلئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ