کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام

کب تک یہ مصیبتیں اُٹھائے اسلام

کب تک رہے ضعف جاں گزائے اِسلام

پھر از سرِ نو اِس کو توانا کر دے

اے حامیِ اسلام خدائے اسلام

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہے شہرہ آپؐ کا سارے جہاں میں
’’ گونج گونج اُٹھّے ہیں نغماتِ رضاؔ سے بوستاں ‘‘
’’پیا ہے جامِ محبت جو آپ نے نوریؔ ‘‘
’’محبت تمہاری ہے ایمان کی جاں ‘‘
’’درِ احمد پہ اب میری جبیٖں ہے‘‘
جو پھول اپنے رنگ میں خوشبو میں ہو جدا
ہیں آپ مصطفی بھی،ہیں آپ مجتبیٰ بھی
ذاتِ والا پہ بار بار درود
تم ذاتِ خدا سے نہ جدا ہو نہ خدا ہو
دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو

اشتہارات