اردو معلی copy
(ہمارا نصب العین ، ادب اثاثہ کا تحفظ)

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے کب سر میں دھول نہیں ہوتی

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے کب سر میں دھول نہیں ہوتی

تری راہ پہ چلنے والوں سے لیکن کبھی بھول نہیں ہوتی

 

سرِ کوچہ عشق آ پہنچے ہو لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہاں

کوئی نیکی کام نہیں آتی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی

 

ہر چند اندیشۂ جاں ہے بہت لیکن اسں کارِ محبت میں

کوئی پل بیکار نہیں جاتا کوئی بات فضول نہیں ہوتی

 

ترے وصل کی آس بدلتے ہوئے ترے ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے

کب دل مصروف نہیں رہتا کب جاں مشغول نہیں ہوتی

 

ہر رنگ جنوں بھرنے والو، شب بیداری کرنے والو!

ہے عشق وہ مزدوری جس میں محنت بھی وصول نہیں ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تجھ کو اپنا کے بھی اپنا نہیں ہونے دینا
نیا کروں گا وہ جو پرانوں سے مختلف ہو
نہ کوئی باد نما تھا نہ ستارہ اپنا
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی
اِسی میں چھُپ کے بلکنا ، اِسی پہ سونا ہے
تمہارے لمس کی حدت سے تن جھلستا تھا
یہی کمال مرے سوختہ سخن کا سہی
مجھے اب مار دے یا پھر امر کر
مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات