اردوئے معلیٰ

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے کب سر میں دھول نہیں ہوتی

کب پاؤں فگار نہیں ہوتے کب سر میں دھول نہیں ہوتی

تری راہ پہ چلنے والوں سے لیکن کبھی بھول نہیں ہوتی

 

سرِ کوچہ عشق آ پہنچے ہو لیکن ذرا دھیان رہے کہ یہاں

کوئی نیکی کام نہیں آتی کوئی دعا قبول نہیں ہوتی

 

ہر چند اندیشۂ جاں ہے بہت لیکن اسں کارِ محبت میں

کوئی پل بیکار نہیں جاتا کوئی بات فضول نہیں ہوتی

 

ترے وصل کی آس بدلتے ہوئے ترے ہجر کی آگ میں جلتے ہوئے

کب دل مصروف نہیں رہتا کب جاں مشغول نہیں ہوتی

 

ہر رنگ جنوں بھرنے والو، شب بیداری کرنے والو!

ہے عشق وہ مزدوری جس میں محنت بھی وصول نہیں ہوتی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ