اردوئے معلیٰ

کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں

 

کتابِ مدحت میں شاہِ خوباں کی چاہتوں کے گلاب لکھ دوں

ورق ورق چاندنی لٹاتے کروڑہا ماہتاب لکھ دوں

 

وہ سنگریزے جو راستوں میں پڑے ہوئے ہیں وہ محترم ہیں

دیارِ خوشبو کے ذرے ذرے کو نازشِ آفتاب لکھ دوں

 

ہوائیں سرگوشیوں میں مژدے شفاعتوں کے سنا رہی ہیں

ہوائے بطحا کے مہکے جھونکوں کو مشک و عنبر کے خواب لکھ دوں

 

یقیں ہے کامل درود وجہِ نجات ہوگا بروزِ محشر

درود ذاتِ رسول پر ان گنت پڑھوں بے حساب لکھ دوں

 

یہ زیست ہو جائے کار آمد اگر اطاعت میں بیت جائے

میں اپنے جیون کا ایک اک پل بنامِ عالی جناب لکھ دوں

 

بڑے دنوں سے مرے قلم کو بلندیوں کا جنون سا ہے

میں چاہتا ہوں کہ ان کے نعلینِ نور پر بھی کتاب لکھ دوں

 

حریمِ اشفاقؔ میں مواجہ کا عکسِ دل کش لگا ہوا ہے

میں اس کو گھر پر برسنے والا عنایتوں کا سحاب لکھ دوں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ