اردوئے معلیٰ

کتنا بلند پایہ ہے دربارِ مصطفےٰ

’’روح الامیں ہیں غاشیہ بردارِ مصطفےٰ‘‘

 

دلکش ہیں ، دل پذیر ہیں اطوارِ مصطفےٰ

قرآں کا ترجمان ہے کردارِ مصطفےٰ

 

جان قمر ہے تابش رخسارِ مصطفےٰ

عنبر فشاں ہیں گیسوئے خمدارِ مصطفےٰ

 

نکلے سفر کو ، تھم گیا کونین کا نظام

کیا اہتمام ہے پئے دیدارِ مصطفےٰ

 

مہتاب و آفتاب ، ستاروں کی شکل میں

بکھرے ہیں آسمان پہ انوارِ مصطفےٰ

 

محشر میں جلوے بندہ نوازی کے دیکھنا

ہر غمزدہ سے ہوگا سروکارِ مصطفےٰ

 

سر ہی نہیں کہ جس میں نہ ہو خوئے بندگی

دل ہی نہیں کہ جو نہ ہو بیمارِ مصطفےٰ

 

مجھ کو کسی امیر کی چوکھٹ سے کیا غرض

دل ہے مرا ازل سے گرفتارِ مصطفےٰ

 

کیوں ان کی وصف خوانی میں رطب اللساں نہ ہو؟

ہے ساری کائنات نمک خوارِ مصطفےٰ

 

موج ہوا میں ذکر ، سمندر میں تذکرے

سارے جہاں میں گرم ہے بازارِ مصطفےٰ

 

کیونکر نہ ذکر کیجیے نواب شاہ کا

اے نور! یہ بھی ہیں گل گلزارِ مصطفےٰ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات