کتنے حسیں ہیں گیسو و رُخسارِ مصطفیٰ

 

کتنے حسیں ہیں گیسو و رُخسارِ مصطفیٰ

ہر کوئی لگ رہا ہے طلبگارِ مصطفیٰ

 

محشر میں تیز دُھوپ کا عالم ہو جس گھڑی

مل جائے مجھ کو سایہء دیوارِ مصطفیٰ

 

لایا ہوں چن کے آیتیں قرآنِ پاک سے

کہنی ہے نعت برسرِ دربارِ مصطفیٰ

 

روشن ہیں چاند تارے محمد کے نور سے

پھیلے ہیں دو جہان میں انوارِ مصطفیٰ

 

جو آپ کی رضا ہے وہ مولا کی ہے رضا

آیاتِ دل نشین ہیں گفتارِ مصطفیٰ

 

رُوح الامینؑ ’’سدرا‘‘ سے آگے نہ جا سکے

وہم و گماں سے تیز تھی رفتارِ مصطفیٰ

 

ہر سو ملائکہؑ نے بچھائے ہوئے ہیں پر

جنت نشاں ہیں، کوچہ و بازارِ مصطفیٰ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ