کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے

کرتا مَیں کیا گُریز ترے خدّوخال سے

آنکھوں سے بچ کے نکلا تو ھونٹوں نے آ لیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہوا کے سرد ہونے سے مجھے تسکین ملتی ہے
تم بھی شاید وہیں سے آۓ ھو
وجودِ عشق سے انکار کرنے والا تھا
دکھ میں اب بھی پکارتی ہوں "​ماں"​
اور ان دنوں کسی سے بھی مطلب نہیں مجھے
صدائیں دیتے ہوئے اور خاک اڑاتے ہوئے
معلُوم ھے جناب کا مطلب کچھ اَور ھے
چاند آ بیٹھا ہے پہلو میں ، ستارو ! تخلیہ
شہرِ بےرنگ میں کب تُجھ سا نرالا کوئی ھے
چمکتے ستارے! اگر میں تری طرح لافانی ہوتا