اردوئے معلیٰ

کرتا ہوں جب درود کی نیت گمان میں

قدسی فلک سے آتے ہیں دل کے مکان میں

 

نسبت بلال کی ہوئی اُن سے زمین پر

حورانِ خلد رشک کریں آسمان میں

 

ہر پھول دل نشیں ہے رسالت کے باغ کا

سب سے چنیدہ آپ ہیں اِس گلستان میں

 

رنج و الم سبھی نے فراموش کر دیے

آئے جو ان کے سایۂ صد مہربان میں

 

شکرِ خدا غلامِ نبی کر دیا مجھے

فائز وہی کرے گا مجھے ہر جہان میں

 

میری کہاں مجال کہ مدحِ نبی کروں

اک ذرۂ حقیر ہوں اس خاک دان میں

 

اِس کے سِوا نہیں کوئی دولت قمرؔ کے پاس

کرتا ہے پیش نعت فقط ارمغان میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات