کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی

کرتا ہے جنوں شام و سحر ورق سیاہ بھی

ہے طنز مگر عشق کو احباب کی ”واہ“ بھی

 

اشعار مرے داخلی منظر کی جھلک ہیں

یہ عین سعادت بھی ہوئے اور گناہ بھی

 

لگ جائے کہیں میری نظر ہی نہ مجھی کو

بھرتی ہے تخیل کی پری ناز سے آہ بھی

 

گلشن ہوں تو میں رشکِ خیابانِ ارم ہوں

صحرا ہوں تو بے انت ہوں بے آب و گیاہ بھی

 

تا عمر کہ وحشت رہی اعجاز کی منکر

تا عمر رہا عجز مگر چشم براہ بھی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تیری یاد اور تیرے دھیان میں گزری ہے
جس سے رشتہ ہے نہ ناتا میرا
کب میسر ہے ہمیں اپنا سہارا ہونا
DON QUIXOTTE
ہے داستان فقط ساتویں سمندر تک
اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
زخم ، بھر بھی جائے توکتنا فرق پڑتا ہے؟
نہ سُنی تم نے ، کوئی بات نہیں

اشتہارات