کرم ایسا کبھی اے ربِ دیں ہو

کرم ایسا کبھی اے ربِ دیں ہو

نبی کا سنگِ در میری جبیں ہو

 

نگاہوں میں بسا ہو سبز گنبد

لبوں پر مدحتِ سلطانِ دیں ہو

 

سکوں کی روشنی صد آفریں ہے

نبی کی یاد ہی دل کی مکیں ہو

 

محبت ، پیار ، امن و آشتی کا

مرا کردار سنت کا امیں ہو

 

ہمیشہ دین کے میں کام آؤں

مرا ہر کام خدمت کا نگیں ہو

 

مرے جب آخری لمحات آئیں

مدینے پاک کی ہی سر زمیں ہو

 

نبی کے عشق میں مر جاؤں میں بھی

لحد میری بھی روضے کے قریں ہو

 

عقیدت کے گلوں جیسی معطر

رضاؔ کی زندگانی بھی حسیں ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

یارب ہے بخش دینا بندے کو کام تیرا
جو جسم و جاں کے ساتھ ہے شہ رگ کے پاس ہے
تری ذات سب سے عظیم ہے تری شان جل جلالہٗ
اگر جہان میں آتے نہ مصطفیٰؐ اللہ
حوالہ ہے تُو عفو و درگزر کا، کہ تو ستّار بھی غفّار بھی ہے
نہ لب پر شکوہ و فریاد رکھنا
تیری عطائیں بے کنار
خدا کی حمد میری زندگی ہے، خدا کی حمد میری بندگی ہے
خدا کا ذکر کرتے سب جہاں ہیں
جھُکے رہنا خدا کی بارگاہ میں

اشتہارات