اردوئے معلیٰ

کرم منظر، گدا پرور مرے سرکار کی چوکھٹ

نہ دیکھے قد، نہ دیکھے سر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

مسیحاؤں کی چارہ گر مرے سرکار کی چوکھٹ

کرے اندھوں کو دیدہ ور مرے سرکار کی چوکھٹ

 

وہ اپنے وقت کا دارا ہو، یا کوئی سکندر ہو

جھکا لیتی ہے سب کے سر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

فراز چرخ کا عرش علا کا باغ جنت کا

سمیٹے ہے اک اک منظر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

مدینہ سے یہ دوری بھی مجھے دوری نہیں لگتی

کچھ ایسی نقش ہے دل پر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

نہ بھٹکو در بدر اے بیکسو پہنچو مدینے میں

ہے فضل و جود کا مصدر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

سلامی کو فرشتے روز و شب یونہی نہیں آتے

ہے اوج عرش سے بر تر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

فقید المثل کی چوکھٹ فقیدالمثل ہی ہوگی

نہیں رکھتی کوئی ہم سر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

وہ دل عرش معلی کی بلندی چوم لیتا ہے

بنا لیتی ہے جس میں گھر مرے سرکار کی چوکھٹ

 

یہ جتنے در زمانے میں بہی خواہ خلائق ہیں

کفیل ان سب کی ہے سرور مرے سرکار کی چوکھٹ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات