کرم نبی کا چمک رہا ہے ہنوز ماہِ تمام جیسا

کرم نبی کا چمک رہا ہے ہنوز ماہِ تمام جیسا

جہاں میں کوئی نہ آئے گا اب ہمارے خیرالانام جیسا

 

زمانے بھر میں کسی کا ایسا ادب ہوا ہے نہ ہو سکے گا

اک ایک ساعت کرے ہے میرے رسول کا احترام جیسا

 

گداگرِ راہِ عام ہم ہیں ہماری کیا حیثیت ہے لوگو !

نبی کے در پر ہے تاجدارِ جہاں بھی ادنیٰ غلام جیسا

 

سماعتوں پر جو رکھ دے انگلی ، دلوں کی دنیا بدل کے رکھ دے

سنا نہ میں نے کلام کوئی کلام حق کے کلام جیسا

 

حبیب رب کریم وہ ہیں قسم خدا کی عظیم وہ ہیں

نبی بہت ہیں مگر نہیں ہے کوئی بھی شاہِ انام جیسا

 

جو اپنے نانا کے اک اشارے پہ ہنس کے سر کو کٹا دے انجمؔ

نہ بزم عالم میں کوئی دیکھا امام عالی مقام جیسا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سنا ہے شب میں فرشتے اُتر کے دیکھتے ہیں
ایسا تجھے خالق نے طرح دار بنایا
رحمت نہ کس طرح ہو گنہگار کی طرف
حضورِ کعبہ حاضر ہیں حرم کی خاک پر سر ہے
مرے آقاؐ، کرم مُجھ پر خُدارا
آپؐ کے پیار کے سہارے چلوں
نبیؐ کا گُلستاں ہے اور میں ہوں
ذکرِ نبیؐ سے ہر گھڑی معمُور ہوتا ہے
نہیں بیاں کی ضرورت، حضور جانتے ہیں
کمال اسم ترا، بے مثال اسم ترا

اشتہارات