کرم کا آسماں اَلْحَمْدُللہ

کرم کا آسماں اَلْحَمْدُللہ

وہی دارلاماں اَلْحَمْدُللہ

 

وہی طس ہے طہٰ وہی ہے

وہی روح و رواں اَلْحَمْدُللہ

 

وہی مالک وہی عالم کا سلطاں

ہمارا حکمراں اَلْحَمْدُللہ

 

کلام اللہ ہمارے واسطے لائے

امامِ مرسلاں اَلْحَمْدُللہ

 

سراسر وہ کرم ہے کملی والا

کہے ہر دم لساں اَلْحَمْدُللہ

 

وہی رحم و کرم کا اک ہے محور

کرم ہے لا گماں اَلْحَمْدُللہ

 

مٹا ہر روگ اس کے در سے لگ کر

مدد ہر اس کے ہاں اَلْحَمْدُللہ

 

اے سائل وہ دُلارا ہے اِلہٰ کا

کوئی اس سا کہاں اَلْحَمْدُللہ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اُنؐ کے رستوں کی گردِ سفر مانگنا
مری اوقات کیا ہے اور کیا میری حقیقت ہے
مری زبان پہ ان کی ہے گفتگو اب تک
سطوتِ شاہی سے بڑھ کر بے نوائی کا شرَف
اے جانِ نِعَم ، نقشِ اَتَم ، سیدِ عالَم
مرا دل تڑپ رہا ہے
بنایا ہے حسیں پیکر خدا نے مشک و عنبر سے
ان کے در کا جس گھڑی سے میں گداگر ہوگیا
ارض و سما میں جگمگ جگمگ لحظہ لحظہ آپ کا نام
وہ جدا ہے راز و نیاز سے کہ نہیں نہیں بخدا نہیں