اردوئے معلیٰ

Search

کرم کریم کا اچھے سمے میں رکھتا ہے

غلام زاد کو پیہم مزے میں رکھتا ہے

 

پکارتے ہیں ترے خواب نیند کی جانب

وفورِ عشق مجھے رتجگے میں رکھتا ہے

 

سوائے نعت کوئی بات سوجھتی ہی نہیں

جمالِ شاہ اسی دائرے میں رکھتا ہے

 

درونِ قلب مہکتا ہے مثلِ مشکِ ختن

خیالِ شاہ بڑے فائدے میں رکھتا ہے

 

خیال ورد کے لمحے رہا مواجہ کا

درودِ پاک مجھے رابطے میں رکھتا ہے

 

اسے شہانِ جہاں پر ہے فوقیت حاصل

جو ان کا طوقِ غلامی گلے میں رکھتا ہے

 

وہی بناتا ہے اشفاق لفظ کو مدحت

جو میرے حرف کو اک ضابطے میں رکھتا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ