کرم کی اک نظر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

کرم کی اک نظر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

کرم بارِ دگر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

مرا دل آپؐ کو ڈھونڈے، نگاہیں آپؐ کو ڈھونڈیں

مرا گھر منتظر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

میں ہوں بھٹکا ہوا راہی، نظر دے کر مجھے دے دیں

مدینہ کی ڈگر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

میں چا ہوں اُڑتے اُڑتے آپؐ کے قدموں میں جا پہنچوں

عطا ہوں بال و پر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

مرے آقاؐ مرے دل میں قدم رکھ کر اسے اپنی

بنا لیں رہگزر آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

بُلا لیں اپنے در پر آپؐ اس کمتر سگِ در کو

کہ ہوں میں در بہ در آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

 

جھلک روئے منور کی دکھا دیں مجھ کو خوابوں میں

پکارے ہے ظفرؔ آقاؐ، جدائی مار ڈالے گی

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جب مسجد نبویﷺ کے مینار نظر آئے
اعلیٰ واطہر و اکمل وکامل صلی اللہ علیٰ محمد
جو ترے در پہ، دوانے سے آئے بیٹھے ہیں
ایسے ہو حُسنِ خاتمہء جاں نثارِ عشق
مرے آقا کی مسجد کے منارے داد دیتے ہیں
یا نبی نظرِ کرم فرمانا اے حسنین کے نانا
جلوہ گر مشعل سرمدی ہوگئی
ختم ہونے ہی کو ہے در بدری کا موسم
کھویا کھویا ہے دل، ہونٹ چپ، آنکھ نم، ہیں مواجہ پہ ہم
جہاں میں وہ ازل کے حُسن کا آئینہ دار آیا