کرم کے راز کو علم و خبر میں رکھتے ہیں

 

کرم کے راز کو علم و خبر میں رکھتے ہیں

جو لوگ گنبدِ خضرا نظر میں رکھتے ہیں

 

جنونِ عشق محمد جو سر میں رکھتے ہیں

عجب مقام جہانِ ہنر میں رکھتے ہیں

 

نبی کے نام کی نسبت سے ہم سے عاصی بھی

دُعائیں اپنی حدودِ اثر میں رکھتے ہیں

 

خدا شناسی کی منزل میں پیروانِ رسول

چراغِ علم و عمل رہگذر میں رکھتے ہیں

 

جو اہل دل ہیں مدینے کی سمت جاتے ہوئے

متاعِ نعت بھی زادِ سفر میں رکھتے ہیں

 

کہاں ہم اور کہاں مدحت رسول صبیحؔ

اِک ارتعاش سا قلب و جگر میں رکھتے ہیں

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ