کرم یہ بالیقیں ہے اور میں ہوں

کرم یہ بالیقیں ہے اور میں ہوں

مدینے کی زمیں ہے اور میں ہوں

 

مِری معراج دیکھو آئو دیکھو

خُدا مجھ سے قریں ہے اور میں ہوں

 

نبی کے سنگِ دَر پر مرحبا! صد

مِری یارو جبیں ہے اور میں ہوں

 

ملائک بھی برابر صف بہ صف ہیں

یہیں خُلدِ بریں ہے اور میں ہوں

 

نبی کے پیار کی برکت مِلی ہے

ہر اِک پل عَنبریں ہے اور میں ہوں

 

مدینہ چھوڑ کر جانا نہیں ہے

کہ رحمت سب یہیں ہے اور میں ہوں

 

رضاؔ خوش بختیاں تو دیکھ میری

مقدّر دِلنشیں ہے اور میں ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عطا ہوتے ہیں بحر و بر گدا دل سے اگر مانگے
جو ان کے عشق میں آئینہ فام ہو جائے
شاعری کے ماتھے پر ان کی بات مہکے گی
مدینہ دیکھ کر دل کو بڑی تسکین ہووے ہے
پڑا ہوں سرِ سنگِ در مورے آقا
آقاﷺ کی محبت ہی مرے پیشِ نظر ہو
جب بھی پہنچا ہوں آقاؐ کے دربار تک
روشن ہیں دو جہاں میں بدرالدجی کے ہاتھ
قمر کو شقِ قمر کا حسین داغ ملا
میرے دل میں ہے یاد محمد ﷺ میرے ہونٹوں پہ ذکر مدینہ