اردوئے معلیٰ

Search

کریم ! تیرے کرم کا چرچا نگر نگر ہے گلی گلی ہے

ہے اپنا دامن عمل سے خالی ‘ تِرے کرم پر نظر لگی ہے

 

جو تیرے در کی ملے غلامی ‘ زمانے بھر کی ہے نیک نامی

یہی عبادت ہے در حقیقت ‘ یہی حقیقت میں بندگی ہے

 

نہ ملتا مجھ کو ترا گھرانا تو کون سنتا مِرا فسانہ

’’رہے سلامت تمہاری نسبت ‘ مِرا تو بس آسرا یہی ہے‘‘

 

جلیل اپنا تو ہے عقیدہ جو اُن کے در پہ ہے سر خمیدہ

وہی تو ہے بس خُدا رسیدہ ‘ اُسی کی جھولی بھری ہوئی ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ