اردوئے معلیٰ

Search

کرے مدحت وہ آقا کی جسے ان سے عقیدت ہے

ثنا خوانی کرے گا کیا جسے جنت کی چاہت ہے

 

کرم مالک کا ہے جس نے بنایا امتی ان کا

جنہیں امت ہے پیاری اور ہر دم فکرِ امت ہے

 

مہِ میلاد آیا لے کے خوشیاں اپنے دامن میں

منائیں جشن مل کر آپ کا یوم ولادت ہے

 

نسیما ! جانب بطحا گزر ہو گر تو کرنا عرض

کہ شوق دید میں بیتاب دل دن رات تڑپت ہے

 

خرد مندوں سے کہہ دو اہل دل یہ صاف تم جا کر

وہ مومن ہی نہیں جس دل میں آقا سے کدورت ہے

 

مرے بھی درد دل کا کچھ مداوا کیجیے آقا

مجھے بھی تو علاجِ دردِ دل کی اب ضرورت ہے

 

سنور جائیں گے دنیا اور عقبیٰ وارثیؔ سب کے

کریں وہ کام سارے جو مرے آقا کی سنت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ